Saturday, June 9, 2012

پاکستان کے دکھ



لڑکا : سر ایک بہت بڑے صحافی نے ٹویئٹر پر ٹوئٹ کی ہے کہ وہ انسان جس کا پیٹ نہ  بھرا ہو اُسکی سیاسی رائے پر کبھی اعتماد نہیں کرنا چاہیے،کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔

سر:ہاں پاکستان میں تو نہیں مگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ بات درست ہوسکتی ہے۔

لڑکا: سر آپ بتائیں آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

سر: میرا خیال ہے کہ پاکستان میں حالات اس کے برعکس ہیں پاکستان میں اُس انسان کی سیاسی رائے پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے جس کا پیٹ بھرا ہو یا یوں کہیے کہ کچھ زیادہ ہی بھرا ہو۔

لڑکا: نہیں سر آپ غلط کہہ رہے ہیں غریب کی سیاسی بصیرت ہمیشہ مفاد پرست ہوگی اُن صاحب نے ہی درست فرمایا ہے۔
سر: اچھا بھئی ہم نور سے پوچھ لیتے ہیں کیوں بھئی نور کیا تم ہماری مدد کرسکتی ہو؟

لڑکی: سر میں ؟ مِیں آپ کی کیا مدد کروں گی؟

سر: اچھا آپ ہمیں یہ بتایئں کہ آپ کس سیاسی پارٹی کو سپورٹ کرتی ہیں ؟

لڑکی: سر میری ہاف فیملی پیپلز پارٹی کو اور ہاف ن لیگ کو سپورٹ کرتی ہے۔ ننیال ن لیگ کا سپورٹر ہے اور ددیال پیپلز پارٹی کا۔

سر: تم خود کسے سپورٹ کرتی ہو؟

لڑکی: میں PPP کو ہی سپورٹ کرتی ہوں کیونکہ ابّو کہتے ہیں PPP سب سے اچھی پارٹی ہے۔ بےنظیر تو ہمارے گھر بھی آیئں تھیں سر اُنہوں نے میرے ابّو کو اپنا بھائی بنایا ہوا تھا اُنکی تصویر بھی ہے ابّو کو ساتھ۔ مگر میرے ماموں ن لیگ کے سپورٹر ہیں ۔

سر: ماموں کام کیا کرتے ہیں آپ کے؟

لڑکی : سر وہ تو مجھے نہیں پتہ صحیح طرح کہ کیا کام کرتے ہیں۔مگر وہ بہت بڑے آدمی ہیں ن لیگ کے لیے پورے حلقے میں ووٹ کی اپیل کرتے ہیں کہتے ہیں کہ  کسی نے اگر شیر کو ووٹ نہ دیا تو اُس کی ایسی کی تیسی نہ کردیں۔

سر: واہ بھئی بہت سیاسی خاندان ہے آپکا تو،اچھا یہ بتائیں کہ یہ زرداری صاحب کیسے انسان ہیں ؟

لڑکی : اچھے انسان ہیں سر بہت نفیس ابّو کہتےہیں کہ اُن جیسا سیاسی بصیرت والا انسان پورے پاکستان میں نہیں ہے۔ خدا جانے کچھ عقل سے پیدل لوگ اُن کے پیچھے پڑے رہتے ہیں مجھے تو اُن میں کوئی ایسی بُرائی نظر نہیں آئی۔

سر: ہاں صحیح کہہ رہی ہیں آپ کو آ بھی نہیں سکتی۔

لڑکی: ن لیگ بھی اچھی ہے سر ماموں غلط کیسے ہوسکتے ہیں اب؟ نواز شریف صاحب نے ہی تو موٹر وے بنوائی تھی اور شہباز شریف صاحب بھی پنجاب کو کتنا develop کررہے ہیں ۔

سر: ایک اور پارٹی بھی ہے تحریک انصاف ،اُس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

لڑکی :توبہ توبہ سر وہ تو بہت غلط لوگ ہیں وہ بالکل صحیح لوگ نہیں ہیں۔

سر: کیوں بھئی ناصر تمہیں کیا لگتا ہے ہماری نور کا پیٹ نہیں بھرا ہوا؟ بھرا ہوا ہے نہ ؟ اب تمہیں اس کی سیاسی بصیرت پر یقین کرلینا چاہیے, بالکل کرلینا چاہیے 
.
لڑکا : مسکراتے ہوئے، سر اس کا بہت naive  مائینڈ ہے یہ ابھی بچی ہے اس کے تمام سیاسی خیالات بھی اُن مذہبی عقائد کی طرح ہیں جو اسکے ماں باپ نے اسکے پلے ڈال دئیے ہیں ،یہ سب اسکی اپنی نہیں بلکہ والدین ،اور رشتہ داروں کی سوچ ہے۔

سر: تمہیں کیا لگتا ہے اس کے حکومتی عہدیدار باپ یا پٹواری ماموں کا پیٹ نہیں بھرا ہوا جو اُنکی سیاسی رائے پر تم یقین نہیں کرنا چاہتے؟ بھئی پاکستان میں تمہیں زیادہ تر اسی طرح کے پیٹ بھرے لوگ ملیں گے کیا تم اِنکی سیاسی بصیرت پر اعتماد کر لو گے؟

لڑکی: سر یہ آپ دونوں کیا باتیں کر رہے ہیں حد ہے سر آپ مجھے ہی taunt  کئے جارہے ہیں مجھے ہی طعنے دئیے جارہے ہیں، اللہ کا شکر ہے ہم رزق حلال کماتے ہیں۔

سر: ارے بیٹی غصہ مت کیجئیے ہم آپکی  economic stateکو criticize نہیں کررہے ہم تو صرف کچھ ایسے کھاتے پیتے لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جن سے یہ پوچھا جائے کہ آیئندہ الیکشن میں کس پارٹی کو ووٹ دینا چاہیے۔ کیونکہ ناصر کہہ رہا ہے کہ جس انسان کو دو وقت کی روٹی مشکل سے ملتی ہو وہ کیا سیاسی رائے دے سکتا ہے۔

لڑکی: سر کہہ تو یہ صحیح رہا ہے ان غریب لوگوں کو کیا پتا کہ کسے ووٹ دینا چاہیے اور کسے نہیں۔ان کو تو کوئی بھی آسانی سے خرید سکتا ہے اور یہ بک بھی جاتے ہیں۔

لڑکا: سر کیا آپ ٹی وی پر سیاسی ٹالک شوز نہیں دیکھتے؟

سر: نہیں میں نہیں دیکھ سکتا ۔ میں جذباتی انسان ہوں میں ایسے ڈھیٹ شوز نہیں دیکھ سکتا۔

لڑکی: نہیں سر آپ ضرور دیکھیں ورنہ آپکو پاکستان کو مسائل کا پتا کیسے چلے گا؟

سر: "پاکستان کے مسائل"  اس لاِئن سے مجھے چِڑ ہے کہ پاکستان کے مسائل کیا ہیں، کوئی کہتا ہے پاکستان کا مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے کوئی تعلیم کی کمی اور کوئی کہتا ہے دہشت گردی ، مگر مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے پاکستان کے مسائل میں۔

لڑکا: سر آپ کیسے محب وطن پاکستانی ہیں جس کو پاکستان کے مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے؟

سر: دیکھو میاں ناصر، پاکستان کے مسائل  کیا ہیں میرے لئے اس سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ "پاکستان کے دکھ کیا ہیں؟"
لڑکا: ہاہاہاہا سر مذاق نہ کریں ہمارے مسائل ہی تو ہمارے دُکھ ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے کیا دکھ ہوسکتے ہیں؟
سر: نہیں بیٹا یہ مسائل ہمارا دُکھ نہیں ہیں ہمارا دکھ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے لیڈر ہیں جو کہتے ہیں کہ
·         تمہارے مئسلوں کا کوئی حل نہیں ہے۔
جو کہتے ہیں کہ
·         کسی کے پاس بھی تمہارے مسئلوں کا حل موجود نہیں ہے۔
ہمارا دکھ یہ ہے کہ حکومت چار سال گزرنے کے بعد ہمیں بتاتی ہے کہ
·         تمہارے مئسلے اتنے سنگین ہیں کہ چار سالوں میں ایک بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا تھا۔
نور اگر آپ مجھے کہیں کہ سر آپ غریب ہیں تو میں غربت کو اپنا مئسلہ ہی سمجھوں گا مگر آپ مجھے کہیں کہ سر آپ ہمیشہ ہی غریب رہیں گے تو میں غربت کو اپنا مئسلہ نہیں دکھ سمجھ لوں گا ،مجھے کتنا دکھ ہوگا یہ جان کر کہ میں ہمیشہ ہی غریب رہوں گا یہی پاکستان کے دکھ ہیں ۔
لڑکی: سر آپ کیا عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ کو کیا لگتا ہے اگر کائرہ صاحب ٹی وی پر آکر بتاتے ہیں کہ ہمارے مسئلے حل نہیں ہوسکتے ،عمران خان سے بھی حل نہیں ہوسکتے اور ن لیگ پہلے ہی پنجاب میں حکومت میں ہے اس سے بھی ہمارے مسئلے حل نہیں ہوئے تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ غلط کہتے ہیں؟ ان کی عقل کی بات پر آپ کو دکھ ہوتا ہے؟ حیرت ہے سر وہ تو صرف حقیقت بیان کرتے ہیں۔

سر: نور کیا آپ نے کبھی اپنے حکمرانوں کا چہرہ دیکھا ہے؟ آپ کو اپنے صدر اور اپنے وزیراعظم کی سمائل کیسی لگتی ہے؟

لڑکی : جی سر میرے تو بہت فیورٹ ہیں، اُنکی سمائل بھی بہت اچھی ہے۔

سر: کیا آپ نے utility store  سے باہر نکلتی ہوئی اُس عورت کا چہرہ دیکھا ہے جسکا خاوند صرف چار ہزار مہینے کا رکشہ چلا کر کماتا ہے اور وہ تین ہزار کا ماہانہ  راشن اپنے پانچ بچوں کے لئیے لے کر ہاتھ میں پانچ سو روپے کا نوٹ پکڑے utility store  سے باہر  نکلتی ہے کبھی آپ نے ایسی عورت کا چہرہ دیکھا ہے؟ کیا آپ نے اُسکی سمائل دیکھی ہے؟اُس عورت کو  اگلے کچھ دنوں تک دنیا کے  کسی لطیفے پر ہنسی نہیں آتی وہ عجیب shock  میں مبتلا ہوتی ہے، کیا آپ نے کبھی اُسکا اور اپنے حکمرانوں کی مسکراہٹوں کا موازنہ کیا ہے؟

لڑکی: سر تو آپکا کیا مطلب ہے اُس کے اِس دکھی چہرے کی ذمہ دار حکومت ہے؟ نہیں سر اُسکا خاوند ذمہ دار ہے وہ پڑھ لکھ جاتا کہیں کلرک لگ جاتا پولیس میں بھرتی ہوجاتا اچھی تنخواہ مل جاتی اور رشوت بھی ملتی۔ یہ دن تو نہ دیکھنے پڑتے اب آپ اسکا ذمہ دار بھی حکومت کو ٹھہرا دیں ۔

سر: اور یہ لوڈشیڈنگ اسکا ذمہ دار کون ہے؟

لڑکا: سر PPP  کہتی ہے یہ مئسلہ چار سالوں میں حل ہونے والا نہیں تھا ورنہ وہ نکال نہ لیتے اسکا حل،اس مئسلے کا جلد حل نکالنا ناممکن ہے۔

سر: بچوں دیکھو اگر ان ہمارے مسائل کا حل ہی ان کے پاس نہیں ہے تو یہ حکومتی عیاشی کیوں کررہے ہیں ہمارے وسائل پر انکا مکمل حق ہے مگر ہمارے مسائل ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیا ایسے انسان کو تنخواہیں اور مراعات ملنی چاہیے جس کو اپنا کام ہی کرنا نہ آتا ہو اور اگر اِنکا کام ہمارے مئسلے حل کرنا نہیں ہے تو پھر کیا ہے آخر صرف عیش کرنا اور یہ اعلان کرنا کہ تمہارے مئسلے کبھی حل نہیں ہوسکتے،کسی سے حل نہیں ہوسکتے۔

لڑکا: سر کہہ تو آپ صحیح رہے ہیں کہ ہمارا دکھ ہمارے مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ سیاستدان ہیں جنہوں نے ہمارے مئسلوں کو ناقابِل حل قرار دے دیا ہے لوڈشیڈنگ ہونا دکھ کی بات نہیں ہےدکھ کی بات یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ ایسے ہی ہوتی رہے گی یہ تو صریح دکھ کی بات ہے ،شاید حکومت ہی غط ہے،شاید میں یقین سے نہیں کہہ سکتا مگر شاید۔

سر: دیکھو ناصر پاکستان میں رہتے ہوئے جس کے پاس سب کچھ ہو گاڑی بنگلہ بینک بیلنس اچھے زیورات ان سے کبھی مت پوچھنا کہ کسے ووٹ دینا چاہیے پاکستان میں یہ سوال کبھی ان سے نہیں پوچھنا چاہیے۔
لڑکی: سر یہ تو آپ ہم امیروں کی تذلیل کررہے ہیں آپ امیروں کو پھنسا رہے ہیں آپ غریبوں کو ان سے نفرت کرنا سکھا رہے ہیں مجھے آپ سے یہ توقع نہیں تھی۔آپ بالکل غلط کہہ رہے ہیں ۔ ہم امیر کتنا کچھ کرتے ہیں غریبوں کیلیے اُنہیں donations دیتے ہیں اور تو اور اُنہیں عزت بھی دیتے ہیں آپ ہمیں blame نہیں کرسکتے۔




فریحہ فاروق 
8-06-2012

Wednesday, May 30, 2012

ذکر سے فکر بدل جاتا ہے


بانو قدسیہ نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ "انسان انایئت کا مارا ہوا ہے یہ کبھی دوسروں کے تجربے سے نہیں سیکھتا" بلاگنگ اصل میں ہے کیا؟ یہ صرف اپنی writing skills دکھانے کا نام نہیں ہے ,معلومات شیئر کرنے کا نام نہیں ہے, بنیادی طور پر بلاگنگ اپنے تجربات شیئر کرنے کا نام ہے کہ بھئی دیکھو میں نے یہ تجربہ کیا ہے میں اس میں کامیاب یا ناکام ہوا ہوں مگر اس سے میں نے کچھ سیکھا ہے آپ بھی میرے تجربے سے سیکھیں اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کے سیکھیں ۔ تمہید اسلئے باندھی ہے کیونکہ میرے پاس کوئی نئی معلومات نہیں ہے بتانے کیلئے صرف ایک نیا تجربہ ہے جس سے میں آج کل کچھ نیا سیکھ رہی ہوں اور  کوئی اور انسان بھی اس سے سیکھے حالانکہ یہ ایک مشکل کام ہے کہ کسی اور کے تجربے سے سیکھا جائے مگر پھر بھی شیئر کر رہی ہوں کیونکہ کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔
مجھے نہیں پسند تھا اپنے بچپن سے روایئتی عبادات کرنا کیونکہ مجھے لگتا تھا اس میں میرا دماغ استعمال نہیں ہوتا ،رٹی رٹائی سورتوں کو بار بار پڑھ کر مجھے کیا مل جائے گا ثواب کی لالچ نے بھی مرغوب نہیں کیا، مجھے لگتا تھا یہی وقت میں بھتر طریقے سے استعمال کر سکتی ہوں اگر میں کوئی کتاب پڑھ لوں یا ٹی وی دیکھ لوں کسی سے گفتگو کرلوں ، میں اکیلی نہیں ہوں ھمارے ارد گرد بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہیں رسمی عبادات بور محسوس ہوتی ہیں جن میں عقلی اور دماغی ارتقاء کا موقع ملتا محسوس نہیں ہوتا ۔ مجھے خدا کو عبادت کی بجائے فلسفے اور فطرت میں ڈھونڈنے کا شوق رہا ہے جو اب بھی کافی حد تک قائم ہے مگر گذشتہ سالوں سے شدید Insomnia ہوگیا  اور بھی بہت سے دماغی مئسلے جیسے ڈیپریشن وغیرہ وغیرہ جس کی بنیادی وجہ میری بہت زیادہ منفی سوچ تھی اس حالت میں انسان کو ایک ماہر نفسیات کی ضرورت ہوتی ہے ۔پچھلے سال رمضان میں ،میں نے جیو پر بلال قطب کا پروگرام دیکھا اس نیئت سے کہ اس پر تنقید کی جائے مگر پروگرام تھوڑا عجیب سا محسوس ہوا پروگرام میں کال کرنے والے سبھی لوگوں کے مسئلے مسائل تو میرے جیسے تھے مگر اُنکا حل جو بلال قطب صاحب بتارہے تھے مجھے ایک عقل پرست ہونے کی حیثیت سے ناقابِل قبول سے لگے کہ ہر ایک کو کچھ خاص ورد بتا دیا اور کہا کہ بھئی اس کا ورد کرو یہ زکر کرو اور سارے مئسلے حل ہوجایئں گے میں نے سوچا بلال قطب صاحب antidepressants and anxiolytics کے دور میں ہمیں کیا پاگل بنا رہے ہیں کہ ذکر کرنے سے نفسیاتی اور دنیاوی سب مسائل حل ہوجائیں گے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ درحقیقت دنیاوی مسائل حل کرنے کیلئے سب سے پہلے نفسیاتی مسائل حل ہونے چاہئیے کیوںکہ تبھی آپ اس قدر مظبوط بنتے ہو کہ اپنے سارے دنیاوی مسئلے حل کر پاؤ، مگر میں نے بلال قطب کے بہت سے پروگرامز دیکھ کر بھی کامل یقین نہیں کیا کہ ذکر کرنے سے میرے مسئلے حل ہوسکتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن ٹی وی پر ایک انٹرویو نشر ہوا جس میں بلال قطب بانو قدسیہ کا انٹرویو لے رہے تھے اور بانو قدسیہ نے ایک بہت خوبصورت بات کہی کہ "ذکر اورخدمت  دو ایسی چیزیں ہیں جن کا کوئی حساب نہیں ہوتا انہیں بغیر کسی حساب  کتاب کے کرنا چاہیئے " بانو قدسیہ کی بات سُن کر میں نے سوچا ٹھیک ہے تجربہ کرکے دیکھتے ہیں کہ اصل میں زکر سے کیا بدلتا ہے اور کچھ عرصہ بعد ہی مجھے معلوم ہوگیا ذکر کرنے سے "فکر ہی بدل جاتا ہے" ذکر کرتے کرتے آپ آخر کار ایک ایسی سٹیج پر پہنچ جب آپ کی سوچ پاک ہوجاتی ہے آپ کے خیالات ایک نئی نہج کو پہنچ جاتے ہیں یہ سچ میں ایک عجیب طریقے سے عمل کرتا ہے میں لکھنا مذید چاہتی ہوں مگر وقت نہیں ہے مناسب الفاظ بھی نہیں ہے مگر میں نے اب اپنی سوچ میں تبدیلی محسوس کرنی شروع کردی ہے اگر آپ بھی اسے آزمائیں گے مجھے یقین ہے آپکو بھی اس کے روحانی اثر پر یقین ہوجائے گا ۔
 فریحہ فاروق 
31-05-2012

Saturday, May 19, 2012

INSISTING IS ROMANCE



It was that time in Lahore when mostly poor children were used to go their school by Tonga and I was also one among them. I was not status conscious at that time and never felt really bad of this fact that I need to travel in Tonga on the other hand I was a kind of student who was used to watch many awareness programs on TV, such cartoons which uplift the morality by enhancing the ideas of global protection and environment safety and as a kid  I was happy with the fact  that my Tonga is not causing any global warming like other automobiles .,ok I think it’s enough to explain that why I travelled by Tonga during school life while decently hiding my financial status. Why am I telling all this? Actually I am going to tell you an experience of my life, rather early life. In childhood I had great fervor for observing people around me specially on the roads I used to watch them, notice their body languages their expressions and kept drawing some stories in my mind regarding them .Now unfortunately I have lost such glee in observations and rather keep avoiding and neglecting things around me. I was twelve and it was a hot humid day in summers, I was returning home from school in my slow pace commuter when traffic struck outside the NCA hostels. NCA is like a dream land for every other student in Lahore a deeply cultural place with beautiful and attractive students and every one romanticize that place so do I .

I always used to peek across the gate of  NCA hostel to see what was happening inside and I did same that day too as I was obligated to my habit ,suddenly a car entered inside the hostel ,a beautiful young girl stepped outside the car ,a boy was waiting for her already outside they started conversation in a very frank manner ,girl was insisting the boy to accompany her for some where obviously I couldn’t know but It was obvious from their gestures .the sweet princess looking girl was insisting him to join her after a short while boy finally acquiesced and they both sit in the car and left .ok that’s it what a simple plane story to narrate ,nothing like exciting in it ,nothing like suspense or thriller ,it’s just a normal event then why I am telling all this,the problem is that I also couldn't understand  why I liked this scene ?
NCA Boys Hostel (an inside view)

I probably have watched thousands of incidents on roadside but I never remember any incidence so clearly as this one. I kept thinking about this I found it really beautiful what ever happened. Now after few years when I was in 10th standard a friend, class fellow asked me “what do think  of Romance ?” “Romance?” I thought a while and said “to sing a song or giving a gift to someone like flowers or chocolate its romance” she said “romance means writing a poem for someone” maybe I didn't know that time but you can never all the time write a poem for someone so what is romance then? I still don’t know exactly but I miss that girl named Farukh ,may be now I am better able to explain and relate that NCA hostel story with the idea of romance .If I am now being asked the same question that “what is romance?” my answer would be “Insisting is Romance” when you insist someone politely you romance. It was a romantic story which I narrated earlier and that’s why I found it beautiful at that time but I was unable to identify it. My one friend is not happy with that idea of romance  when I discussed with her she said it’s quite like dictating and forcing someone to do something he or she don’t want to but I think dictating and forcing is something different than insisting .Insisting never means to constrain someone rather it’s different and I think it’s really romantic . Do insist your dear one’s but for what to insist? Don’t insist them for your own purposes, for your own needs obviously that’s not romantic ,do insist them for some purposes which will make them happy not likely to create trouble for them but which is beneficial and helpful for them ,to insist on such circumstances will surely going to build up relationships strong and beautiful.
Next question is ,to insist whom? So romance is something which we have quite negatively confined to the relationship of a girl and boy although it’s not the only case, you can create a sense of romance and happiness in your every other relationship do insist your parents your mother your father your sister your brother your friends, your spouse  anyone .and why to insist? Because its romantic ,Insisting is always romantic .I always insist my parents my friends and if someone mind and behave rude it means they don’t deserve your romance and you  don’t need to try such things with them .If you people don’t agree with me I am really sorry because I am happy with my idea of Romance “Insisting is Romancing”.
I hope you people enjoyed the post as no one enjoy my other conventional posts so I tried to write in rather  unconventional manner this time, thank you.
Written by:
Fareeha Farooq
19-05-2012

Saturday, May 12, 2012

گونگے گانے ،اندھی فلمیں



  
گانے گونگے ھو جاتے ھیں فلمیں اندھی ھوجاتی ھیں ۔  یہ اتنی بڑی بات نھیں ھوتی ۔ میرے سارے گانے گونگے ھوگئے ہیں کسی بھی گانے سے آواز ہی نہیں آتی ۔آپ کا کیا مطلب ہے میں بہری ہوگئی ہوں ؟ نہیں میں بہری نہیں ہوں مجھے گانوں کے علاوہ باقی سب آوازیں تو سُنائی دیتی ہیں لوگوں کے بولنے کی آوازیں ،باتوں کی آوازیں ،ہوا کے بہنے کی آواز ، اذان کی آوازیں ،پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں ،میں سب سُن سکتی ہوں مگر گانوں میں سے آواز نہیں آتی لہذا میں تو بہری نہیں ہوئی بلکہ یہ گانے ہی گونگے ہوگئے ہیں ،یقیین جانیئے ان میں سے کسی سے کوئی آواز نہیں آتی۔
اب اگر میں کسی کو بتاتی ہوں کہ میرے گانے گونگے ہوگئے ہیں تو کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ اس جملے کا کیا مطلب ہوتا ھے۔مگر مجھے اس حقیقت کے ساتھ جینا پڑتا ھے کہ اب میرے سارے گانے گونگے ہوگئے ہیں ۔مجھے گانوں سے ایک شدید لگا ؤ تھا ۔بہت بچپن سے لیکر کچھ سال پہلے تک میں ہر گانا سُنتی تھی مجھے میوزک بہت پسند تھا بے حساب فلمیں دیکھتی تھی یھاں تک کہ جب بھی بچپن میں ھم کہیں شھر سے باہر جاتے تھے تو میری یھی کوشش ہوتی کہ ھم ایسی بس میں جائے جس میں VCR پر فلمیں دکھائی جاتی تھیں اور یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں نرسری کلاس میں پڑھتی تھی ،گانے گانے فلمیں فلمیں بچپن سے مجھے بس یہی سب پسند تھا مگر اب کچھ عرصے سے سب بدل گیا ھے میری ساری فلمیں اندھی ہوگئی ہیں اب میں تو اندھی نہیں ہوئی کیونکہ مجھے تو سب کچھ نظر آتا ھے مگر فلمیں نظر نھیں آتی ۔ میں اندھی نہیں ہوئی یہ ساری فلمیں ہی اندھی ہوگئی ہیں ، گانے ہی گونگے ہو گئے ہیں ۔شروع شروع میں سمجھ نہیں آتی تھی کہ گانے گونگے ھوگئے ھیں گانا کب شروع ہوا کب ختم ہوا مجھے پتہ ھی نھیں چلتا تھا میں نے گانوں کو بھت ہلا ہلا کر چیک کیا کانوں سے لگایا کہ شاید آواز آجائے مگر افسوس کسی کی بھی آواز نھیں آئی ۔
English گانے ہمیشہ سے گونگے تھے اور اب بھی گونگے ہیں میرے لیئے، مگر اُردو ہندی گانے میں بہت سُنتی تھی وہ ہمیشہ سے گونگے نہیں تھے مگر اب ھوگئے ہیں دنیا میں ایسے کتنے ہی لوگ ہوں گے جن کے گانے ہمیشہ سے گونگے ہوں گے کتنے ایسے لوگ ہوں گے جن کے گانے کبھی گونگے نہیں ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جن کے گانے پہلے گونگے نہیں ہوں گے مگر پھر اچانک سے گونگے ہوگئے ہوں گے۔پاپا کے گانے بھی تو گونگے نہیں ہیں وہ بھی گانے سُنتے رھتے ہیں ۔
کچھ عرصہ  پہلے میں ایک کتاب پڑھ رہی تھی حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی لکھی ہوئی تصوف کی پہلی کتاب "کشف الِمحجُوب" کتاب میں جھاں فقیری اختیار کرنے کا طرز بتایا گیا ھے وھاں داتا صاحب لکھتے ہیں کہ "ترک " کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ خود ہی کسی چیز کو چھوڑ دو خود ہی اُسکا ذائقہ ترک کردو اور دوسرا یہ کے آپ خود تو کسی چیز کو یا luxury کو نہ چھوڑو مگر خدا خود آپ کیلیے اُس چیز کا زایقہ ترک کردے آپ خود اُس چیز کو نہیں چھوڑتے مگر خدا کی طرف سے آپکے کیلیے اُس شے کا ذائقہ ختم کردیا جاتاھے ،ہوسکتا ہے میرے ساتھ ایسا کچھ ہوگیا ھو میں نے خود گانے نہیں چھوڑے میں تو اُنہیں سُننے کی بے تہاشا کوشش کی مگر لگتا ہے انکی آواز خدا کی طرف سے ہی ختم کردی گئی ہے اب گانے ہی گونگے ہوگئے ہیں میں کیا سُنو  جب مجھے آواز ہی نہیں آتی ۔
جیسے مجھے بہت حیرت ہوتی تھی کہ جُنید جمشید کیسے گانے چھوڑ سکتا ھے ایسے کیونکر ممکن ہے ایک بندے کو میوزک سے اتنا لگاو ہو اور وہ میوزِک چھوڑ دے مگر اب شاید مجھے احساس ہوگیا ہے کہ کیسے چھوڑ سکتا تھا جب آ پ کےگانوں کا taste ہی ختم ہوجائے جب گانے ہی گونگے ہوجائے تو پھر آپ اُنہیں گاؤ   یا نہ گاؤ  کیا فرق پڑتا ہے کیا یہ تصوف ہوتا ھے؟ کیا گانے گونگے ھوجانا بہت معرفت کی بات ہوتی ہے؟
یہاں میڈیکل سایئنس کی اپنی کہانی ہے اس صورتحال کو جس میں آپ کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں بالکل لگاو ختم ہوجائے اُسے ڈیپریشن کہتے ہیں ۔ایسے بھی ہوسکتا ہے کہ مجھے schizophrenia ہوگیا ہو اور یہ سب شدید ڈیپریشن کی علامات ہیں جسے میں نے اپنی طرف سے تصوف اور معرفت کا رنگ دے دیا ہے ، میرے دوست کہتے ہیں تمہارا صرف taste بدل گیا ہے۔ یا یہ صرف ڈیپریشن کا اٹیک ہے۔مگر کیا اتنا طویل ڈیپریشن کا اٹیک ہوتا ہے؟
کیا سارے گانے گونگے ہوچکے ہیں ؟ ہاں ،مگر ہم قوالی سُنتے ہیں ساری تو نہیں مگر کوئی کوئی ،،"علی مولا علی مولا علی دم دم" یہ قوالی  ابھی گونگی نہیں ہوئی یہ میں سُن سکتی ہوں اسکی مجھے آواز بھی آتی ھے قوالیاں ابھی گونگی نہیں ہوئی ،گانے ہی گونگے ہوئے ہیں ۔کبھی کبھی مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ان سب گانوں کی آواز واپس نہ آجائے ۔۔نہیں نہیں اب یہ گونگے ہی رہے ایسے ہی ٹھیک ہے ، گانے گونگے ہوجاتے ہیں ،فلمیں اندھی بھی ہوجاتی ہیں اتنی بڑی بات نہیں ہوتی ۔۔۔مجھے معلوم ہے یہ اتنی بڑی بات نہیں ہوتی ۔۔

Saturday, May 5, 2012

سنڈریلا کی بہنیں




سنڈریلا اُردو میں نھیں لکھی گئی تھی تو آخر سنڈریلا کی بہنیں اُردو میں کیوں لکھی جارھی ھے ایکچولی ریزن یہ ھے کہ مجھے لینگویجیز کا شدید مسئلہ ھوگیا ھے آج میں اپنی دوست کو بتا رھی تھی کہ میں نے ایک رُووڈ پوسٹ لکھنی ھے اور رُووڈنس ھمیشہ انگلش میں اچھی لگتی ھے اُردو میں نہیں ،اُردو میں ھمیشہ انسان باادب ھوکر لکھتا ھے ۔سو  ناوَ  آئی  ڈیسایڈیڈ   کہ میں نہ یہ آردو میں لکھوں گی نہ انگلش میں اِسے میں اپنی ھی زبان میں لکھوں گی جو میں ڈیلی لائف میں یوز کرتی ھوں کیا یہ آیڈیا میں نے کسی سے کاپی کیا ھے؟ یس  یو  پیپل  آر   ویری   رائٹ ، کیا ھے ۔ بٹ  لیو   اِٹ ٹوپک پہ آتے ھیں۔
سنڈریلا کی بہنیں ۔۔۔دنیا میں آخر سنڈریلا ھی بیچاری اور مظلوم کیوں ھے؟؟ وائے ناٹ سنڈریلا کی بہنیں ؟؟ میں نے جب بچپن میں یہ کہانی سُنی  تو    آئی رئیلی فیلٹ بیڈ فور سسٹرز آف سنڈریلا ۔کہانی میں ایک حسن پرستی کا عنصر غالب ھے یا یوں کہیے کہ اچھا انسان ھمیشہ خوبصورت ھوتا ھے اور بُرا انسان ھمیشہ بدصورت یہ دکھایا گیا ھے اِز اِٹ رئیلی سو؟؟؟  دنیا کے سارے بدصورت انسان یا وہ جو زیادہ خوبصورت نھیں ھوتے کیا وہ بُرے ھوتے ھیں ؟؟؟
لیٹ  می  ٹیل   یو   دا  ورلڈ  ،، دنیا کی ھر لڑکی سنڈریلا نھیں ھوتی۔۔ کچھ لڑکیاں سنڈریلا کی بہنیں بھی ھوتیں ھیں ،لمبے پیروں والی، اُونچے دانتوں والی، پیملز اور فریکلز والی ،سانولی رنگت والی اور چھوٹے ناکوں والی ۔ھر لڑکی سنڈریلا نھیں ھوسکتی ھماری دنیا میں بہت سی لڑکیاں سنڈریلا کی بہنوں کی کیٹیگری میں آتیں ھیں جو اچھی بھی ھوتی ھیں اور مظلوم بھی مگر کہانی اتنی بائیس ھو کر کیوں لکھی گئی یہ تو رائیٹر ھی بہتر جانتا ھے ۔اس کہانی نے دنیا کی ناٹ سو بیوٹیفُل سنڈریلا کی بہنوں کو بہت نقصان پہنچایا ھے ۔کیا سنڈریلا کی کہانی کی طرح دنیا میں صرف خوبصورت لوگ ھی اچھے ھوتے ھیں؟ کیا بدصورت انسان اچھے نہِیں ھوسکتے ؟ ییس مائی ڈئیر ورلڈ ھوسکتے ھیں ، اچھائی خوبصورتی اور بدصورتی کی محتاج نھیں ھوتی ۔اچھائی صرف اچھائی ھوتی ھے خوبصورت اور بدصورت دونوں انسان اچھے ھوسکتے ھیں ۔ ویل وی آل ھیو دِس کومن سینس اِن اَس ۔بٹ پرابلم کیا ھے؟؟
پرابلم ھے نہ تو سنڈریلا نہ ھی سنڈریلا کی بہنیں بلکہ پرابلم ھیں ھمارے "پرنس" یِس شہزادے ،دنیا کے سب لڑکے جو سب خود کو ایک برابر سمجھتے ھیں ان میں کوئی سنڈریلا اور سنڈریلا کی بہنوں والی تقسیم موجود نھیں ہے دے   آل   آر   پرنس  اِن دئیر سیلف ۔ڈو   آئی   ھیٹ   بوایئز   ڈو   آئی؟؟ ریئلی یو   پیپل تھینک آئی ڈو سو  ؟؟
فور گیٹ اِٹ لیٹس ڈسکس
سو   دنیا کا ھر لڑکا اور یوں کہیں کہ ھماری سوسائیٹی کا ہر لڑکا خود کو سنڈریلا کی کہانی کا پرنس تصور کرتا ھے جسے اپنے خیالات کی وادی میں اپنی سنڈریلا ایک بار ملنے آتی ھے اور اپنا جوتا اُس کے پاس ھی چھوڑ جاتی ھے اب وہ ساری عمر اپنے ساتھ وہ سنڈریلا کا جوتا لیئے پھرتا ھے اور جو بھی لڑکی ملتی ھے اُسے یہ جوتا پہنانے کی کوشش ضرور کرتا ھے اس بیچارے کو اب کون یہ سمجھائے کہ بھئی  دنیا کی ھر لڑکی سنڈریلا نھیں ھوتی کچھ لڑکیاں سنڈریلا کی بہنیں بھی ھوتی ھیں جنھیں تمھاری سنڈ سنڈ سنڈریلا کا جوتا کبھی پورا نھیں آسکتا مگر  یو    نو    بواِئیز  ،  یہ بضِد ھوتے ھیں اور سنڈریلا کی بہنوں کو سنڈریلا کا جوتا پہنانے کی کوشش کرتے رھتے ھیں ۔۔
کیا آپکے  پاؤں کا سائز بڑا ھے؟ کیا آپ نے کبھی جوتا خریدتے ھوئے یہ اکسپیریئنس کیا ھے کہ شاپ کیپر آپ کو بہت چھوٹے سایز کا جوتا زبردستی آپکے پاؤں میں فِٹ کروانے لگا ھو ؟ کیا یہ پین فُل اکسپیریئنس نھیں ھوتا ؟ بیلیو می یہ بہت پین فُل اکسپیریئنس ھوتا ھے جب آپکو کوئی ایسا جوتا پہنا رھا ھو جو آپکے سائز کا ھی نہ ھو ۔
تو آخر مئسلے کا حل کس کے پاس ھے؟؟ مئسلے کا حل تو شائد کسی کے پاس نھیں ھے مگر ھمیں صرف اپنے رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ھے لڑکوں کو چاھئیے کہ صرف سنڈریلا تلاش کرنا چھوڑ دیں سنڈریلا کی بہنیں بھی اچھی لڑکیاں ھوسکتی ھیں اور سنڈریلا کو  چاھیے کچھ نہ کرے وہ بیچاری کیا کرسکتی ھے وہ تو پہلے ھی سنڈریلا ھے اور سنڈریلا کی بہنوں کو چاھیے خود کو سنڈریلا کی جوتی میں فِٹ کرنے کے لیئے نمائیشی اور مصنوئی ھتھکنڈے   آزمانا  چھوڑ دے ،بی یور سیلف یار ،یو   آر    گُڈ   ایز    یو    آر ،یو   نیڈ   نو   چینج    فور   دیز   بلڈی سو کالڈ     پرنسِز   اور    اگر پھر بھی کوئی پرنس تمھیں "سنڈریلا کی بہنوں" کو سنڈریلا کا ہی جوتا پہنانے کی ضد کرے تو یہ جوتا اُتارنا اور اُنکے منہ پہ مار دینا اوکے ؟ ایم آئی بینگ رُووڈ؟؟ رِیئلی   ایم   آئی ؟؟ ل و ل
ریِٹن بائے فریحہ فاروق ایٹ دی ڈیٹ 5 مئی 2012
)تصویریں انٹرنیٹ سے لی گئی ھیں (




Saturday, April 21, 2012

زمین کے خداؤں کے نام


برصغیر پاک و ھند یعنی انڈیا اور پاکستان ایسی جگھیں ھیں جھاں بھت سے عظیم صوفیاکرام گزرے ھیں ان کے مزار بھی بنائے گئے عقیدت مندوں نے آج تک ان کے مزاروں پر باقاعدگی سے حاضریاں دی ھیں لوگ ان مزاروں پر منتیں مرادیں بھی مانگتے رھے ھیں۔ یہ صوفیاکرام خدا کے بھت زیادہ قریب تھے انھوں نے پوری زندگی فقیری کی گزاری تکالیف و مصائب برداشت کیں اور لوگوں کو فیض دیا جو مادی نھیں تھا بلکہ روحانی تھا ان میں سے کسی بزرگ کے پاس کوئی سرکاری خزانہ نھیں تھا کوئی بزرگ صحت و بجلی و پانی کا وزیر نھیں تھا  
 یہ بزرگ بیرون ملکوں میں گھوم کر چندہ اکھٹا نھیں کرتےتھے جو لوگوں میں بانٹنا ھوتا تھا کہ لوگ ان کے گُن گانے لگیں بلکہ یہ لوگ تو علم کا درس اور اخلاقیات کی دولت بانٹتے تھے انھوں نے بذات خود کبھی کسی کو کچھ نھیں دیا لیکن پھر بھی لوگوں کو انکے زریعے بھت کچھ مل جاتا تھا. 
ان صوفیاکرام نے خود کو لوگوں کیلیے خدا تک پھنچنے کا وسیلہ بنایا اور لوگوں نے بھی انکے سھارے خدا کا قرب حاصل کیا ۔آج تک کسی بزرگ اور بابا جی نے شاید ھی اپنی جیب سے کسی کو کچھ دیا ھو مگر ان لوگوں کو خدا نے بھت کچھ دیا اگر صحت مانگی توخدا نے صحت دے دی ،ان مزاروں پر جو منت مانگی گئی خدا کے دربار تک وہ ضرور پھنچی اور لوگوں کو خدا کے در سے فیض حاصل ھوا ، میں کھنا صرف یہ چاھتی ھوں کہ کوئی بھی ایسا بزرگ صوفی یا بابا نھیں تھا جس نے خود لوگوں کو کچھ دیا ھو مگر انھوں نے لوگوں کو خدا سے مانگنے کا سلیقہ ضرور سکھایا ،ان میں سے کوئی بھی بزرگ خدا نھیں تھا مگر وہ خدا کے بندے ضرور تھے اور وہ اپنے پیروکاروں کو خدا کے حضور لے  جاتے اس کے دربار میں پیش کرتے اور خدا کے دربار میں سب کی حاضری بھی ھوجاتی جسکو جو ملنا ھوتا خدا کے حضور سے ھی مل جاتا ان سب صوفیا اکرام نے لوگوں کی ملاقات عرش کے خدا سے کروائی اور آسمان پر موجود خدا ھی سب کا خدا تھا.
آج کل ھمارا یہ علاقہ صوفیاکرام تو نھیں مگر سیاست دان ضرور پیدا کرتا ھے یھاں اب لوگوں نے صوفیاکرام کی بجائے سیاستدانوں کے مزار بنانا شروع کردیے ھیں لوگ جو صوفیاکرام کے مزاروں پر حاضری دیتے تھے اب ان کے مزاروں پر بھی باقاعدگی سے حاضری دیتے ھیں مگر ان سیاستدانوں اور ھمارے صوفیاکرام میں بھت فرق ھے وہ صوفیا کرام خود کچھ نھیں دیتے تھے مگر یہ سیاستدان لوگوں کو روٹی کپڑا مکان دیتے ھیں کسی کو مفت تعلیم دیتے ھیں کسی کو ٹیکسی دیتے ھیں کسی کو زمین کا پلاٹ دیتے ھیں کسی کی محلق بیماری کا علاج کرواتے ھیں یہ زمین کے خدا بنے بیٹھے ھیں اگر یہ خود کو خدا نھیں بھی سمجھتے تو ان سے مانگنے والے ضرور انھیں خدا سمجھتے ھیں ۔ جس ملک میں کسی کا عقیدہ یہ ھوجائے کہ پیپلز پارٹی ھی ھمیں روٹی کپڑا مکان دے سکتی ھے یا نواز شریف ھی ھمیں مفت تعلیم دلوا سکتا ھے یا عمران خان ھی ھمارے کینسر کا علاج کراسکتا ھے اور آسمان پر موجود خدا کا اس میں کوئی عمل دخل نھیں تو ایسی قوم سے خدا کا لاپرواہ ھوجانا کیا لازمی امر نھیں ؟ ھم سب کو تو زمین کے خداؤں سے مانگنے کی عادت پڑ گیئ ھے ۔لوگوں آسمان کے خدا سے بھی کبھی روٹی کپڑا مکان مانگ کے دیکھ لو کیا معلوم وہ تمھیں ان سیاستدانوں سے پھلے یہ سب میسر کر دے مگر نھیں ھمیں ان سب سیاستدانوں سے اُمیدیں وابستہ کرنے کی عادت ھوگیئ ھے اب ھمیں ان زمیں کے خداؤں میں زیادہ دلچسپی ھے جھاں لوگ صوفیاکرام کی درگاھوں پر چڑھاوے چڑھاتے تھے وھاں اب لوگ ان سیاست دانوں (مردہ اور زندہ) کے مزاروں کے طواف کرتے ھیں اب حال یہ ھے کہ بھٹو کے مزار پر لوگ منتیں مانگتے ھیں مایئں اپنے بیمار بچوں کے لیے شفاء مانگنے بھی یھاں آتی ھیں ،اب لوگوں نے اپنی ساری اُمیدیں اان زمیں کے خداؤں سے وابستہ کرلیں ھیں ۔ملک کے تمام انتھایئ غریب لوگ جو کسمپرسی کی زندگی گزار رھے ھیں سب ابھی بھی پیپلز پارٹی کے ھی جیالے ھیں ایسا کیوں ھے اسکا کوئی logic نھیں ھے کیونکہ ان غرباء کو روٹی کپڑا اور مکان چاھیے اور اس دھرتی پر انکو ایک ھی خدا ایسا نظر آتا ھے جو اُنھیں محنت مزدوری کیے بنا بھیک کی صورت میں ایک ھزار روپیہ دے سکتا ھے .
اس ملک کے انتھائی امیر لوگ بھی پیپلز پارٹی کے سپورٹر اور ووٹر ھیں اور رھیں گے کیونکہ ان انتھائی امیر لوگوں کے دولت خانوں میں صرف پیسا بھرا ھونا چاھیے انھیں اسکے حلال اور حرام ھونے سے قطعی کوئی غرض نھیں ھے ۔انھیں صرف اپنے خزانوں کو دُگنا کرنے سے غرض ھے جو ان زمین کے خداؤں کے زریعے باآسانی ھو رھے ھیں دنیا کی زندگی کامیاب ھورھی ھے درمیانے طبقے کے لوگ بھی کوئی ایسے خدا کے عزیز نھیں ھیں انھوں نے بھی اپنی پارٹیوں سے ساری اُمیدیں باندھ کر خدا سے اور زندگی کی دوسری تمام جھتوں سے منہ موڑ رکھا ھے ۔ نہ جانے کب تک یہ تماشا جاری رھے گا کب تک ھم زمین کے خداؤں سے مانگتے رھیں گے کب ھم مانگنے والوں سے ماننے والے بنیں گے؟ کب ھم دوبارہ صوفیا کرام کے مزار بنایئں گے ۔ ابھی تو صرف آغاز ھے ابھی نہ جانے کتنے اور زمین کے خدا اُبھرنے ھیں اور نہ جانے مذید کتنے سالوں تک ھم ایسے ھی ان زمیں کے خداؤں سے روٹی کپڑا مکان تعلیم صحت اور بجلی اور مانگتے رھیں گے