Sunday, February 20, 2011

بدنیک انسان

میں نیک انسان ھوں 
میں بد انسان ھوں
مجھ سے ملیں میں بدنیک انسان ھوں
آپ سوچ رھے ھوں گے یہ کیا نیا مرکب ھے بدنیک انسان مگر یھی حقیقت ھے، امتحانی تحقیقات اور تجربات کی روشنی میں مجھے یہ خیال وارد ھوا ھے کہ نہ تو میں نیک انسان ھوں اور نہ ھی بُرا یا بد انسان ،میں تو صرف ایک بدنیک انسان ھوں ۔میرا مسلہ کچھ اسطرح ھے کہ میں نیکی کو تو بھت حسین اور دل پسند سمجھتا ھوں لیکن مجھے برائی سے بھی کبھی کوئی ایسی کوفت نھیں ھوئی میں نے اچھائی اور برائی دونوں کو ھی زندگی میں قبول کرلیا ھے اب نہ تو اچھائی بُری لگتی ھے اور نہ ھی بُرائی میں موئی برائی نظر آتی ھے۔
یہ تو ھم سب جانتے ھیں کہ اچھائی اور برائی دونوں ھی Theory of Relativityکو followکرتے ھیں اگر کوئی مریخ سے زمیں کا نظارہ کرے تو شاید اسے یھاں زمین کا برا کام بھی اچھا معلوم ھو کیونکہ مریخ کا رھنے والا اس کام سے محفوظ ھوگا مگر دنیا میں رھنے والے کے لیے وہ کام برا ھی ھوگا کیونکہ وہ اس برائی سے خود کو غیرمحفوظ غیرتصور کرے گا۔اسی طرح پوری دنیا میں عجب اچھائی برائی کا کھیل چل رھا ھے۔
گالی دینا ایک بُرا کام ھے یہ ھم سب جانتے ھیں مگر یھی گالی کوئی کسی کرپٹ سیاستدان کو دے تو لوگ تالی ماریں گے اور آپ کی گالی کا بھی استقبال کریں گے ۔کیوں کیا اب یہ برائی نھیں رھتی؟
کسی بڑے ترقی یافتہ ملک میں جا کر رھنے کا خواب دیکھنے والے اسے بھت اچھا ملک سمجھنے والے ،اسے دنیا کی جنت سمجھنے والےلوگ اس ملک کی ھلکی پھلکی اجارہ داری پر ایسے آوازیں بلند کرتے ھیں جیسے اس سے برا کوئی اور ملک ھو نھیں سکتا ۔کیا یہ وھی اچھا ملک نھیں ھے جس کے خواب آپ سجاتے ھیں ؟ معاملہ سنجیدہ ھوگیا ھے ۔۔۔چھوڑے اسے۔
ھاں تو میں کھہ رھا تھا بدنیک آدمی،جو کہ میں خود بھی ھوںاور بھی بھت سے ھوں گے ھمارے معاشرے میں مگر لوگ تو یا صرف نیک یا بد انسان سمجھ پاتے ھیں ،ھم بیچارے تو یہ دونوں ھی نھیں ھوتے ۔ھم اچھا کام کرنے کی طرف راغب تو ھوتے ھیں مگر ھمارے اچھے
کام بھی ھماری طرح برائی کی طرف راغب ھوجاتے ھیں ۔ھم کوئی نیک کام بھی کرے تو اس کا نتیجہ برائی پر ختم ھوتا ھے یا یہ کھیے کہ ھماری نیکی پر ھی برائی چھائی ھوتی ھے اور ھماری نیکی معصوم ھمیشہ برائی کے ماتحت ھی رھتی ھے ۔ھماری زندگیوں میں اچھائی برائی ،نیکی اور بدی کی ایسی جنگ چلی ھے کہ ھم بدنیک لوگ آخر تنگ آکر کھتے ھیں کہ کچھ نھیں ھوتا"پیار اور جنگ میں سب جایز ھے“ اب یہ طے کرنا مشکل ھے کہ زندگی کو جنگ سمجھ کر یہ کھتے ھیں کہ موت کو پیار ،بنا کر۔مگر نتیجہ ھمیشہ ھار ھی ھوتا ھے ۔

مجھے نیک لوگ کبھی سمجھ میں نھیں آئے ،میں ھمیشہ نیک لوگوں سے دور بھاگتا آیا ھوں کیونکہ نیک لوگ ھمیشہ اپنی نیکی سے مجھے ایک احساس شرمندگی کی دلدل میں ڈبو دیتے ھیں یہ لوگ ھماری برائی پر تنقید کرکے ھمیں کبھی طعنہ دینے سے نھیں چونکتے اور برے لوگوں سے اصل کے برے لوگوں سے بھی مجھے ڈر لگتا ھے کیونکہ یہ بعض اوقت اپنی برائی کے نشے میں یہ بھی بھول جاتے ھیں کہ وہ انسان ھیں یا حیوان ۔ھمیں تو بد نیک انسانوں کی صحبت ھی اچھی لگتی ھے ھم نے دوست بھی ایسے ھی بنائے ھیں جو زندگی کو ایسے گزارے کے نہ تو اچھائی کی اھمیت کا اندازہ ھوسکے اور نہ ھی برائی کے نقصان کا۔مگر کیا ھر اچھائی نیکی ھوتی ھے ؟ اور کیا ھر غلطی گناہ ھوتی ھے ؟ کیا غلطی کرنا ھی برائی ھوتی ھے ؟
غلطیاں انسان سے ھی ھوتی ھیں اور شاید حساس انسان سے ھوتی ھیں کیونکہ جو لوگ جتنے زیادہ حساس ھوتے ھیں وہ اتنی زیادہ غلطیاں کرتے ھیں ۔پریکٹیکل اور سمجھدار انسان کبھی غلطیاں نھیں کرتایہ تو emotional اور sensitive لوگوں کی معراج ھے ھم بدنیک اور حساس لوگ جب بھی کوئی نیکی کرنے لگتے ھیں تو فطرتا کوئی نہ کوئی غلطی سرانجام دے دیتے ھیں اور وہ غلطی ھماری نیکی کو بدی کے رخ موڑ دیتی ھے غلطی برائی کی ماں بن کر ابھرتی ھے اور ساری نیکی کنویں میں گر جاتی ھے ،ایک اور بات یاد آرھی ھے کہ "اعمال کا دارومدار نیت پر ھوتا ھے “ آخر ان بدنیک یعنی اچھائی اور برائی کے کمپاؤنڈ کاموں کا دارومدار کس پر ھوتا ھے ؟کیا ھماری نیت ھی خراب ھوتی ھے ؟ معلوم نھیں نیت تو نیکی کی ھی ھوتی ھے
مگر اعمال غلط ھوجاتے ھیں ،یہ کیا عجیب ڈرامائی فکر ھے ؟ نیکی بدی اعمال نیت ،مگر ایک بات تو یقینی ھے کہ آپ نیکی کرے یا برائی ،نیک انسان ھوں یا بد انسان یا پھر بدنیک انسان ،انسان غلطی ضرور کرتا ھے اور لوگ ھماری غلطیوں پر ھمیں اچھا،برا مانپتے ھیں ھماری اچھائی ،برائی پر نھیں ۔لوگوں کے پاس شاید وہ آلہ ھی نھیں جو جو نیکی اور بدی کے ساتھ غلطی کی بھی پھچان کر سکے ،پھر شاید ھم اپنے آپ کو بدنیک انسان سمجھنا چھوڑ دیں "غلط انسان" سمجنا شروع کردیں پھر میں لکھ رھا ھوں گا “میں غلط انسان“ کیونکہ غلطی تو ھم سب سے ھوتی ھے
اب شاید میں کھہ سکتا ھوں کہ" میں نیک انسان جو کرنے تو نیکی جاتا ھےاور پھر غلطی سرزد کردیتا ھے اور لوگ اس غلطی کو بدی سمجھ لیتے ھیں اور میری نیکی بدی میں بدل جاتی ھے اور میری غلطیاں مجھے بدنیک انسان بنا دیتی ھیں “
افسوس اب ھمیں اسی سماج میں رھنا پڑے گا جھاں نیکی اور بدی کے درمیان تو لکیر کھینچ دی گیئ ھے مگر برائی اور غلطی کے درمیان کوئی فرق نھیں سمجھا جاتا،یھاں لوگ غلط انسان کو غلطی سدھارنے کا موقع نھیں دیتے بلکہ اسے بدانسان بنا کر معاشرے سے علیحدہ تصور کرنے لگتے ھیں یھاں برائی کو سمجھنے والے اور اھمیت دینے والے اور سزا دینے والے تو ھزاروں ھیں مگر افسوس غلطیوں کو سمجھنے والے ان پریکٹیکل انسانوں میں نھیں ملتے ۔ان کی ڈکشنری میں غلطی اور برائی کے ایک ھی معنی پائے جاتے ھیں مگر ھم حساس لوگ ان کی بدولت اپنی غلطیوں کو نھیں دھراتے اس لیے ھم ان سب پریکٹیکل انسانوں کا شکریہ ادا کرتے ھیں ۔۔۔شکریہ
مصنف: فریحہ فاروق



3 comments:

  1. super writing, really impressive, but one thing i want to say is mistake is mistake if for the first time if someone insists on mistakes its not mistake then, it becomes evil.

    ReplyDelete
  2. insan is a composit of both naiki and badi..
    u kant scale urself as cmpletely naik or bad...
    every person is mixture of both naiki and badi...
    *dard-e- dil k wastay paida kya insan ko warna ebadat k lye kuch kum na thay karobiyaan*
    but there is differnce between badi and galti..
    yeah i agree v r living in a world of practicality where there is hardly a place for sensitiv ppl...
    yeah fareeha dats the point i was talking bout v kan only make observation about a person regarding his behaviour, habits traits dats what v called perception.. but no one except Allah kan judge a person as judgement is al about neyat,
    there is a war prevailing in every one heart(nafs)
    sumtyme v persist on doing sumthing even knowing dats bad and a neglecting the voice dat is yelling inside us..do u knw whose voice is dat?? *zameer*
    may Allah b guardian of all of us.. ameen :)

    ReplyDelete
  3. thanks Amina for ur kind views :)

    ReplyDelete