Sunday, March 25, 2012

گنجان آباد شھر کا گنجان آباد قبرستان




لاھور، اور لاھور کے اندر میانی صاحب قبرستان ،اس قبرستان کو دیکھ کر آپکو ایسا محسوس ھوگا کہ جیسے قبروں کا ایک شھر آباد ھے جب کبھی بھی میں اس قبرستان کے باھر سے گزری ھوں تو ایسا ھی محسوس ھوا کہ جیسے قبروں کا ایک وسیع شھر لوھے کی کالی سلاخوں کے پار آباد ھے ،بھت ھی گنجان آباد شھر ۔لاھور عجیب شھر ھے یھاں انسانوں کا ساتھ نھیں ملتا مگر انسانوں سے پیچھا چھڑانا بھی بھت مشکل ھے کھیں بھی چلے جاؤ آپکو انسان ھی انسان ملتے ھیں ۔سڑکوں پر گھروں میں بازاروں میں شاید ھی کوئی ایسی جگہ موجود ھو اس شھر میں جھاں آپکے کچھ گز کے فاصلے پر کوئی دوسرا انسان موجود نہ ھو ۔
یھی حالت اس گنجان آباد شھر کے گنجان آباد قبرستان کی ھے ،قبریں ھی قبریں جھاں تک نگاہ جائے کوئی کونہ کوئی نُکڑ ایسی نھیں ھے جھاں قبر نہ بنی ھو میانی صاحب قبرستان سے میری زاتی  
اٹیچمنٹ اسلیے بھی ھے کہ میری دادی دادا، پھوپھو پھوپھا اور اب تک جتنے بھی خاندان میں جھان فانی سے رخصت ھوئے سب یھیں دفن ھیں اور بچپن میں عید پر ھم سب قبروں پر پھول چڑھانے بھی ضرور جایا کرتے تھے کیسا عجیب بچپن تھا عید کے دن بھی قبرستان چلے جاتے تھے وہ بھی ایک ایسے عجیب و غریب قبرستان جس میں شاید ھی کوئی ایسی قبر موجود ھو جس کے ایک فُٹ کے بھی فاصلے پر کوئی دوسری قبر موجود نہ ھو اب تو یہ بھی سُنا ھے کہ قبروں کے اُوپر قبریں بننے لگیں ھیں شاید ھی جلد ایک ایسا وقت آجائے جب اسے ایشیا کا سب سے گنجان آباد قبرستان گردانا جائے گا ۔مٹی کا شھر عجیب شھر مٹی کا فرش بنا ھے آسمان کی چھت بنی ھے نہ تو بارش کیلیے کوئی انتظام ھے نہ دھوپ کیلیے اوپن ایئر قبرستان ھےدیورایں بھی تو صرف چند فُٹ کی ھیں اور کالے رنگ کی روکاوٹی سلاخیں ۔ یہ بھلا کیسا قبرستان ھوا
پھلے شھر میں مریں پھر یھاں آکر مریئے ایسے تو لاھور شھر بھت اچھا ھے لیکن اتنے چھوٹے سے شھر میں اتنے زیادہ لوگ مرے میرا مطلب ھے بسے ھوئے ھیں کہ اسکی گنجان آبادی کبھی کبھار طبیعت کو سخت بوجھل کردیتی ھے اگر کبھی آپکے دل میں آئے کہ سب انسانوں سے دور ھوجایئں کوئی آپکو نہ دیکھے مگر پھر بھی آپ بیرونی فضا میں سانس لے سکیں تو یہ موقع یھاں ملنا بھت مشکل ھے دس پندرہ سال پھلے لارنس گارڈن میں کچھ پرسکون لمحے آپکو صبح یا رات کے وقت نصیب ھوسکتے تھے مگر اب تو وھاں پر اتنا رش ھوجاتا ھے کہ کبھی کبھار تل دھرنے کی جگہ بھی نھیں رھتی ۔ شیشے کی بوتلوں میں جگنو پکڑنے رات کے وقت ھم  لارنس گارڈن ھی جایا کرتے تھے مگر گھر آکر روشنی میں جگنو ایک کیڑا نکل آتا تھا اب تو رات کے ١٠ بجے ھی لارنس گارڈن کے دروازے بند کردیئے جاتے ھیں اور اس سے پھلے ھی لوگ اپنی لازمی ڈیوٹی سمجھ کر باغ میں حاضری دے جاتے ھیں مگر آخر رش کا کیا جائے۔ لاھور میں سناٹا یا تنھائی ڈھونڈنا اب انتھائی مشکل کام ھوچکا ھے اگر یہ سکون آپ گھر میں ڈھونڈنے کی کوشش کریں تب بھی فطرت سے دور چار دیواری کے اندر سکون نھیں اُکتاھٹ کا سامان ھی موجود ھوتا ھے یعنی جیتے جی تو اس شھر کی گنجان آبادی سے پیچھا چھُڑانا انتھائی مشکل ھے اور مرنے کے بعد کی ٹریجیڈی اپنے اس قبرستان میں دیکھ کر اور دل اُداس ھوجاتا ھے زندہ رھتے ھوئے اس شھر میں کبھی اکیلا رھنا ممکن نھیں ھوا مگر اب ڈر لگتا ھے کہ مرنے کہ بعد اس قبرستان میں کیا حال ھوگا اتنے لوگوں کے درمیان زندہ رھنا کتنا مشکل ھے, میں ھی جانتی ھوں اور مرنے کے بعد اس قبرستان میں اتنی قبروں کے درمیان مرے رھنا کتنا مشکل ھوگا یھی سوچ کے بُرا حال ھوجاتا ھے کہ اتنے گنجان آباد قبرستان میں میری قبر بنادیں گے تو میں کھاں جاؤں گی اُف جیسا شھر ویسا قبرستان یھاں انسانوں سے جان چھُڑانا مشکل ھے وھاں مُردے جان نھیں چھوڑیں گے اب اس شھر میں تو زندگی گزار لی ھے مگر اس قبرستان میں دفن ھونے سے میں نے انکار کردیا ھے میں نھیں دفن ھوتی یھاں اتنی قبروں کے درمیان اتنے رش میں اتنی ٹریفک کے پاس. میں نے کوئی نھیں مرے رھنا یھاں۔ میں تو کسی ویران قبرستان میں دفن ھونا چاھتی ھوں میں چاھتی ھوں کہ کسی پھاڑی کی اُوٹ میں ایک خوبصورت قبرستان ھو جس میں گنتی کی صرف چند ایک قبریں ھوں اور ھر قبر دوسری قبر سے کم از کم 20 گز کے فاصلے پر ھو نہ قبرستان کے باھر سے کوئی سڑک گزرتی ھو اور نہ کوئی شور اور ھنگامہ ھو ۔ بس گنتی کے دو چار جانے پھچانے لوگ ھوں جو اپنے پیاروں کی قبر پر حاضری دینے باقاعدگی سے آتے ھوں اور میری قبر اُنھیں حسرت سے دیکھتی ھو مگر پھر بھی سکون میں رھتی ھو مجھے تو ایسا قبرستان ھی پسند ھے .میں نھیں دفن ھوتی اس میانی صاحب میں اتنے رش میں جیتے جی ھمیں انتخاب کا حق نھیں دیا گیا کیسا گھر ھو کیسا ماحول ھو کیسی آب و ھوا مگر میں اپنی قبر کیلیے خود قبرستان منتخب کرنا چاھتی ھوں اُس میں اپنی مرضی سے"زندگی" گزارنا چاھتی ھوں میرا ویران قبرستان ، خوبصورت وادی میں آبادی سے دور بھت پرنور ھوگا پرُرشک ھوگا وھاں میں کتنے سکون سے رھوں گی اور اپنی قبر کے اوپر بیٹھ کر اپنی پسندیدہ ںظم جو اشفاق احمد نے لکھی تھی وہ بھت پرسکون انداز سے پڑھوں گی

فریحہ فاروق
  written on  12 ,October 2011




an inside view of Miani Sahib graveyard
a picture of grave inside Miani sahib graveyard
road outside the Miani sahib
a man selling flowers outside the Miani Sahib


میں اپنی مرقد میں ایسے خوش ھوں کہ میری خدمت میں آنے والا 
ھر اک لمحہ
 حریری ریشمی پردوں کی سرسراھٹ
گلُوں کی خوشبو ,گلیشیر کے سفید گنبد سے دست بستہ میری حضوری میں ھاتھ باندھے
لحد کی وسعت میں پھیل جاتا ھے
نور بن کر سرور بن کر
میں اپنی مرقد میں ایسے خوش ھوں
میری لحد میں میرے سرھانے
گھٹا کی اک منجمد تپائی پہ دھند کا
ایک ریڈیو پڑا ھے
جو اپنے نغموں سے کرنیں بنتا ھے
میرے ملبوس کی چمک میں کاسمک ویو کے سھارے
یھاں میرا گیس رینج رکھا ھے
جس کے اوپر
طرح طرح کے پکوان پک رھیں ھیں
وہ مجھ کو حسرت سے تک رھیں ھیں
کہ دیکھیں کس کے بھاگ جاگیں
میں کس کا ڈھکنا اُٹھا کر دیکھو ں میں کس کو چکھوں
میں اپنی مرقد میں اتنی خوش ھوں
 کہ کوئی کامی کوئی قلندر
کبھی زمکان و مکان کے اندر
نہ ایسی لزت سے آشنا تھا
نہ اب ھے اور نہ ھوسکے گا

میں اپنی مرقد کی وادیوں میں
بڑی مسرتوں سے گزر رھی ھوں
مگر یھاں ایک بڑی کمی ھے
کہ میرے عشرت کدے کے اندر
ایک رومال بھی نھیں
جو آنکھیں نم ھوں تو آنسو پونچھے
جو اشک خونبابہ بار روکے
میرے گریباں اور دامن کی سرزمین کو
نمی سے اور نمک سے بچائے
  میں اپنی مرقد میں اتنی خوش ھوں
میں اپنی مرقد میں ایسے خوش ھوں

an ideal grave yard if I have ever seen one

6 comments:

  1. قبرستان کی خاموشی میں جتنا شور ہوتا ہے ناں اس قدر تو گنجان آبادی کے ہنگامے میں بھی نہیں ہوت!!!۔
    قبر وہاں ہو جہاں اپنوں کا آنا جانا آسان ہو!!!۔ کہ بعد مرنے کے قبر کی تنہائی تنگ نہ کرے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. khuda aap ki bhi khawahish puri kare :)

      Delete
  2. اگر سچ پوچهيں تو يه تحرير اس بلاگ كى شاهكار تحرير هے اور زبردست كمال كى خيال آرائى كى گئ هے…

    ReplyDelete
  3. اصل گھر ہی قبر ہے جناب۔۔۔ اور اسی قبر کو ہم بھول چکے۔۔۔ کچی قبر، پکی قبر، اشعار سے بھرپور کتبے کے ساتھ یا بغیر کتبے کے نشانی کے طور پر ایک اینٹ کے ساتھ۔۔۔ قبر ہی اصل گھر ہے۔۔۔ قبر ہی تا قیامت رہنے والا گھر ہے۔۔۔ قبر ہی وہ تاریک گھر ہے جس میں بسنے کے لیے ہم پیدا کیے گئے۔۔۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. آپ کے اظہارِ خیال کا بہت شکریہ

      Delete