بانو قدسیہ نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ
"انسان انایئت کا مارا ہوا ہے یہ کبھی دوسروں کے تجربے سے نہیں سیکھتا"
بلاگنگ اصل میں ہے کیا؟ یہ صرف اپنی writing skills دکھانے کا نام
نہیں ہے ,معلومات شیئر کرنے کا نام نہیں ہے, بنیادی طور پر بلاگنگ اپنے تجربات شیئر
کرنے کا نام ہے کہ بھئی دیکھو میں نے یہ تجربہ کیا ہے میں اس میں کامیاب یا ناکام
ہوا ہوں مگر اس سے میں نے کچھ سیکھا ہے آپ بھی میرے تجربے سے سیکھیں اپنی انا کو بالائے
طاق رکھ کے سیکھیں ۔ تمہید اسلئے باندھی ہے کیونکہ میرے پاس کوئی نئی معلومات نہیں
ہے بتانے کیلئے صرف ایک نیا تجربہ ہے جس سے میں آج کل کچھ نیا سیکھ رہی ہوں اور کوئی اور انسان بھی اس سے سیکھے حالانکہ یہ ایک
مشکل کام ہے کہ کسی اور کے تجربے سے سیکھا جائے مگر پھر بھی شیئر کر رہی ہوں کیونکہ
کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔
مجھے نہیں پسند تھا اپنے بچپن سے روایئتی عبادات
کرنا کیونکہ مجھے لگتا تھا اس میں میرا دماغ استعمال نہیں ہوتا ،رٹی رٹائی سورتوں
کو بار بار پڑھ کر مجھے کیا مل جائے گا ثواب کی لالچ نے بھی مرغوب نہیں کیا، مجھے
لگتا تھا یہی وقت میں بھتر طریقے سے استعمال کر سکتی ہوں اگر میں کوئی کتاب پڑھ
لوں یا ٹی وی دیکھ لوں کسی سے گفتگو کرلوں ، میں اکیلی نہیں ہوں ھمارے ارد گرد بہت
سے ایسے لوگ ہیں جنہیں رسمی عبادات بور محسوس ہوتی ہیں جن میں عقلی اور دماغی
ارتقاء کا موقع ملتا محسوس نہیں ہوتا ۔ مجھے خدا کو عبادت کی بجائے فلسفے اور فطرت
میں ڈھونڈنے کا شوق رہا ہے جو اب بھی کافی حد تک قائم ہے مگر گذشتہ سالوں سے شدید Insomnia
ہوگیا اور بھی بہت سے دماغی مئسلے جیسے
ڈیپریشن وغیرہ وغیرہ جس کی بنیادی وجہ میری بہت زیادہ منفی سوچ تھی اس حالت میں
انسان کو ایک ماہر نفسیات کی ضرورت ہوتی ہے ۔پچھلے سال رمضان میں ،میں نے جیو پر
بلال قطب کا پروگرام دیکھا اس نیئت سے کہ اس پر تنقید کی جائے مگر پروگرام تھوڑا
عجیب سا محسوس ہوا پروگرام میں کال کرنے والے سبھی لوگوں کے مسئلے مسائل تو میرے
جیسے تھے مگر اُنکا حل جو بلال قطب صاحب بتارہے تھے مجھے ایک عقل پرست ہونے کی
حیثیت سے ناقابِل قبول سے لگے کہ ہر ایک کو کچھ خاص ورد بتا دیا اور کہا کہ بھئی
اس کا ورد کرو یہ زکر کرو اور سارے مئسلے حل ہوجایئں گے میں نے سوچا بلال قطب صاحب
antidepressants and
anxiolytics کے دور میں
ہمیں کیا پاگل بنا رہے ہیں کہ ذکر کرنے سے نفسیاتی اور دنیاوی سب مسائل حل ہوجائیں
گے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ درحقیقت دنیاوی مسائل حل کرنے کیلئے سب سے پہلے نفسیاتی
مسائل حل ہونے چاہئیے کیوںکہ تبھی آپ اس قدر مظبوط بنتے ہو کہ اپنے سارے دنیاوی
مسئلے حل کر پاؤ، مگر میں نے بلال قطب کے بہت سے پروگرامز دیکھ کر بھی کامل یقین
نہیں کیا کہ ذکر کرنے سے میرے مسئلے حل ہوسکتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن ٹی وی پر ایک
انٹرویو نشر ہوا جس میں بلال قطب بانو قدسیہ کا انٹرویو لے رہے تھے اور بانو قدسیہ
نے ایک بہت خوبصورت بات کہی کہ "ذکر اورخدمت دو ایسی چیزیں ہیں جن کا کوئی
حساب نہیں ہوتا انہیں بغیر کسی حساب کتاب کے
کرنا چاہیئے " بانو قدسیہ کی بات سُن کر میں نے سوچا ٹھیک ہے تجربہ کرکے
دیکھتے ہیں کہ اصل میں زکر سے کیا بدلتا ہے اور کچھ عرصہ بعد ہی مجھے معلوم ہوگیا
ذکر کرنے سے "فکر ہی بدل جاتا ہے" ذکر کرتے کرتے آپ آخر کار ایک ایسی
سٹیج پر پہنچ جب آپ کی سوچ پاک ہوجاتی ہے آپ کے خیالات ایک نئی نہج کو پہنچ جاتے
ہیں یہ سچ میں ایک عجیب طریقے سے عمل کرتا ہے میں لکھنا مذید چاہتی ہوں مگر وقت
نہیں ہے مناسب الفاظ بھی نہیں ہے مگر میں نے اب اپنی سوچ میں تبدیلی محسوس کرنی
شروع کردی ہے اگر آپ بھی اسے آزمائیں گے مجھے یقین ہے آپکو بھی اس کے روحانی اثر
پر یقین ہوجائے گا ۔
فریحہ فاروق
31-05-2012